img

انتخابات کب ہونے چاہیئیں؟ کشمکش عروج پر

 

الیکشن کمیشن نے جنوری کےآخری ہفتے میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھااور سیاسی جماعتوں سے اپنی ملاقاتوں میں  چیف الیکشن کمشنر نے28 جنوری کو انتخابات کرانے کی بات کی ہے مگر

ہیں کواکب کچھ  نظر آتے ہیں کچھ

کے مصداق انتخابات جنوری میں ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

مردم شماری کی منظوری کے بعد پی پی پی اور پی ٹی آئی نے آئین میں مقررہ مدت کے تحت انتخابات کا راگ الاپنا شروع کردیا مگر ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری کے بعد نئی حلقہ بندیاں اور  نئی ووٹر لسٹوں کی تیاری بھی آئینی تقاضا ہی ہے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ انتخابات ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ معیشت کی بحالی اہم ہے کیونکہ معیشت کی تباہی کی صورت میں ملکی وجود کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے بعد خوشاب میں ورکرز کنونشن سے خطاب میں جے یو آئی اور پی ڈی ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بعض بالائی علاقوں میں جنوری کے اواخر میں شدید ٹھنڈ کے باعث انتخابات ممکن نہیں ساتھ ہی انہوں نے یہ موقف بھی اپنایا کہ وہ انتخابات کے التواء کا نہیں کہہ رہے اور بیلٹ پیپر پر بلے کے نشان کی موجودگی تک انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

گذشتہ روز ہی الیکشن کمیشن میں عمران خان کو پارٹی سربراہی سے ہٹانے سمیت مختلف امور کے حوالے سے تین درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی اب بھی ممنوعہ ذرائع سے فنڈز لے رہی ہے جبکہ ایک درخواست میں تحریک انصاف کو انتخابی نشان کے لئے نااہل کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے جس پر الیکشن کمیشن نے ابتدائی سماعت کے لئے 10 اکتوبر کی تاریخ بھی مقرر کردی ہے یوں مولانا فضل الرحمان کے مطالبے پر عملدرآمد کی راہ کھلتی نظر آرہی ہے۔

پی پی پی رہنما سید خورشید شاہ نے بھی میڈیا سے بات چیت کی اور پی ڈی ایم قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے  کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان جن کے اشاروں پر جس راہ پر گامزن ہیں اس کی منزل اندھیرے کے سوا کچھ نہیں جبکہ  جماعت اسلامی  کے مرکزی امیر سراج الحق کا کہنا ہے کہ انتخابات کے التواء کی باتیں کرنے والوں کو اپنی شکست سامنے نظر آرہی ہے اور ہم ایسی کسی بھی کوشش کے خلاف پر امن مزاحمت کریں گے۔  پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی کم وبیش اسی موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی پی پی حق لینے کے لئے عدالت جانے اور سڑکوں پر آنے کا سلیقہ جانتی ہے۔

انتخابات اور دیگر معاملات پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم فافن نے الیکشن کمیشن کی حلقہ بندیوں پر سوالات اٹھائے ہیں،تنظیم کی  طرف سے جاری رپورٹ میں مختلف صوبوں کے قومی اسمبلی کے حلقوں میں آبادی کے تناسب کو مقررہ معیار کے خلاف قرار دیا گیا ہے جس کے بعد اسے پی پی پی،جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت میں چیلنج کرنے کے واضح امکانات موجود ہیں ۔مزید برآں ان تینوں جماعتوں کے موقف میں یکسانی اور سندھ میں ایم کیو ایم،جے یو آئی اور جی ڈی اے کے اتحاد کے بعد اس کے مقابلے کے لئے ان 3 جماعتوں کا اتحاد بھی خارج از امکان نہیں۔

سابق وفاقی وزیر  اور سٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والےفیصل واوڈا نے گذشتہ روز نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں برملا طور پر جنوری میں انتخابات کے عدم انعقاد کی بات کی ہے جبکہ اس سے قبل یہ خبر بھی سامنے آچکی ہے کہ مقتدر حلقوں نے اسلام آباد میں پرنٹ میڈیا کے چنیدہ صحافیوں کو ایک بریفنگ میں بتایا ہے کہ اگرچہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی دیگر قیادت کو سائیڈ پر کر دیا گیا ہے مگر ووٹر ابھی بھی تحریک انصاف کا موجود ہے اور اس کے علاوہ وہ خاموش ووٹر جو مہنگائی سے نالاں ہے بھی پی ٹی آئی کے حق میں جاسکتا ہے اس لئے جنوری میں انتخابات ممکن نہیں  کیونکہ اس سے استحکام کے بجائے انتشار کا خدشہ ہے۔ اس لئے مہنگائی میں کمی اور کسی حد تک معاشی استحکام کے حصول کے بعد ہی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا جس کے بعد اس معاملے کے سپریم کورٹ کے سامنے جانے کا امکان بھی روشن ہے۔

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA