کہتے ہیں فطرت جب غضبناک ہو جائے، تو انسان کی ساری تدبیریں، ساری منصوبہ بندیاں ریت کی دیوار بن جاتی ہیں۔ ایسا ہی کچھ بونیر کی حسین وادی میں ہوا، جب کلاؤڈ برسٹ اور فلیش فلڈز نے راتوں رات زندگی کو موت میں بدل دیا۔ جہاں کبھی بچوں کی ہنسی گونجتی تھی، بزرگوں کی دعائیں سنائی دیتی تھیں، وہیں اب خاموشی کا راج ہے، اور فضا میں صرف آہیں اور نوحے سنائی دیتے ہیں۔
یہ قیامت خیز رات صرف پانی نہیں لائی، بلکہ سینکڑوں گھر اجاڑ گئی۔ ماں، باپ، بچے، بہنیں، سب ایک ساتھ اس المیے کی نذر ہو گئے۔ اسپتالوں میں صرف لاشیں رہ گئیں، اور ان لاشوں کو سنبھالنے کے لیے صرف چند افراد نے ایسا کارنامہ انجام دیا، جو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔
چار افراد، دو سو سے زائد لاشیں، اور انسانیت کی معراج
پیر بابا ٹی ایچ کیو اسپتال کے چیف ریڈیالوجی ٹیکنیشن،سردار رحمان اور ان کی اہلیہ چیف میڈیکل ٹیکنیشن پروانہ سردار ،ضیاء الرحمٰن، عزیز اللہ، عرفان، ممنون، عتیق اللہ نے وہ فرض نبھایا جو اکثر بڑے ادارے بھی انجام نہیں دے پاتے۔ جب لاشوں کا پہلا قافلہ اسپتال پہنچا تو وہ اپنی ڈیوٹی ختم کرنے والے تھے، لیکن ان کے ہاتھوں نے رکنے سے انکار کر دیا۔
سردار رحمان کے مطابق پہلے دن 52 لاشیں اسپتال پہنچیں، جن میں زیادہ تر خواتین تھیں۔ لاشوں کی حالت ایسی تھی کہ دیکھنا بھی کسی آزمائش سے کم نہ تھا۔ اسپتال کا عملہ اور ڈاکٹرز اس شدت، بدبو اور جذباتی صدمے کی تاب نہ لا سکے، لیکن سردار رحمان اور پروانہ سردار نے ہمت نہ ہاری۔
خواتین اسٹاف کی کمی تھی، اس لیے پروانہ سردار کو گھر سے بلایا گیا۔ مقامی خواتین نے چادریں پیش کیں تاکہ خواتین کی میتوں کو پردہ دیا جا سکے۔ پروانہ کہتی ہیں:
ان لاشوں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ ان عورتوں نے آخری سانس تک مزاحمت کی۔

پانچ دن، چار افراد، اور 203 لاشیں
پانچ دنوں میں صرف چار افراد نے 133 مردوں اور 70 خواتین کی لاشوں کو غسل دیا، کفن پہنایا، اور لواحقین کے حوالے کیا۔ یہ صرف ایک فریضہ نہیں، بلکہ ایک روحانی خدمت تھی، جس میں نہ کوئی گھنٹہ شمار کیا گیا، نہ کوئی آرام کیا گیا۔
شناخت کا مرحلہ سب سے زیادہ دل خراش تھا۔ لوگ کپڑوں کے ٹکڑوں، زیورات، یا چہروں کے دھندلے نقوش سے اپنے پیاروں کو پہچانتے۔
ایک ہی خاندان کے 15 افراد کی لاشیں ایک ساتھ دی گئیں۔ ایک اور خاندان نے ایک ہی دن 20 جنازے اٹھائے۔ یہ وہ مناظر تھے جو دیکھنے والوں کی روحوں کو چیر گئے۔
لاشوں کی حوالگی کے وقت اسپتال نوحہ خانہ بن چکا تھا۔ ایک ماں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی
میری بیٹیاں اور ماں سب ایک ساتھ چلی گئیں، کس کو آواز دوں اور کس کو دفناؤں؟
ایک بزرگ نے اپنے پوتے کی لاش گود میں لیتے ہوئے کہا:
یہ بچہ ہمارے گھر کی رونق تھا، اب گھر ہے مگر آواز نہیں ہے۔
ایک نوجوان کی آواز میں موت جیسا سناٹا تھا:
میرا پورا خاندان ایک رات میں ختم ہو گیا۔ میں زندہ ہوں، مگر زندگی کا سہارا نہیں رہا۔
خدمت کو عبادت بنانے والے لوگ
سردار رحمان نے ایک جملے میں ساری داستان کو سمیٹ دیا
ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ لاشوں سے بدبو آ رہی ہے یا حالت خراب ہے۔ یہ وقت دل بڑا کرنے کا تھا۔ ہم خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں، اور یہ خدمت ہماری آخری سانس تک جاری رہے گی۔
دعا ہے کہ اللہ تمام جاں بحق افراد کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور سردار رحمان، پروانہ سردار اور ان جیسے بے شمار خاموش ہیروز کو سلامت رکھے جن کی بدولت انسانیت آج بھی زندہ ہے۔