img

بدلتے موسم اور ماحولیات

سن 1990 کی دہائی سے پہلے لندن میں اس قدر سردی پڑتی اور برفباری ہوتی تھی کہ ٹھنڈک کی شدت کا احساس ہڈیوں کے گودے تک محسوس ہونے لگتا تھا جبکہ موسم گرما میں سورج نکلتا تھا تو اس کی دھوپ تمازت اور حدت سے عاری ہوتی تھی لیکن گزرنے والے تیس پینتیس برسوں میں پوری دنیا کی طرح لندن اور برطانیہ کے دیگر شہر اورعلاقے بھی کلائمیٹ چینج یعنی ماحولیاتی تبدیلی کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔اب تو جون جولائی میں کئی بارلندن شہرکا درجہ حرارت 30 ڈگری سنٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے جبکہ نصف صدی پہلے تک یہاں کاٹمپریچر شاذ و نادر ہی 28 ڈگری سنٹی گریڈ سے زیادہ ہوتا تھا۔

یونائیٹڈ کنگڈم اوریورپ میں آباد سردی کے مارے لوگوں کو دھوپ اور گرمی کا موسم بہت اچھا لگتا ہے۔ سمر سیزن میں جس دن درجہ حرارت 25 ڈگری سے اوپر جاتا ہے توگوروں اور گوریوں کے لباس مختصر ہونے لگتے ہیں اور وہ دھوپ تاپنے کے لئے پارکوں اور ساحلوں کا رخ کرتے ہیں۔ سردی سے بیزار لوگوں کی اکثریت چھٹیاں گزارنے کے لئے ان مقامات اور ملکوں کا انتخاب کرتی ہے جہاں سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا ہے اورجہاں کا درجہ حرارت 25 ڈگری سے زیادہ رہتا ہے۔ ہزاروں انگریز، برطانوی سکونت ترک کر کے اچھے اور گرم موسم کی تلاش میں سپین، ترکی اور مڈل ایسٹ میں آباد ہو چکے ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق ساڑھے پانچ لاکھ برطانوی شہری دنیا کے مختلف خطوں میں جا کر رہائش پذیر ہیں۔

 ویسے تو انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔گرم ممالک کے لوگ سردملکوں اور سرد علاقوں میں آباد ہونے کے خواہش مند ہوتے ہیں جبکہ ٹھنڈے ممالک کے رہنے والے گرم خطوں میں زندگی گزارنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ قدرت نے موسموں کے تغیرسے زندگی کی ان گنت رعنائیوں کووابستہ کر رکھا ہے۔ موسموں کے انہی تضادات سے بہت سی ایسی قدرتی مصلحتیں منسلک ہیں جن کا ہم عام انسانوں کو ادراک نہیں ہے۔

برطانیہ اور یورپ کے بہت سے سرد ممالک میں درختوں پر جو سیب اور پودوں پر جو گلاب لگتے ہیں وہ خو شبو سے بالکل عاری ہوتے ہیں جبکہ گرم ملکوں کے پھول اور پھل خوشبو اور ذائقے سے بھر پور ہوتے ہیں۔ ہر موسم اور درجہ حرارت کے پھلوں اور پھولوں کی اپنی ایک تاثیر ہوتی ہے جو مقامی لوگوں کے لئے بہت اکثیر ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پرماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک اس آلودگی کو کم کرنے کے لئے بہت سے عملی اقدام اٹھا ر ہے ہیں مثلًا پورے یورپ میں 2030 کے بعد ڈیزل اور پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ بند ہو جائے گی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پورے یورپ میں جو چار سو ملین کاریں، بسیں اور دیگر گاڑیاں سڑکوں پر چلتی اور آلودگی کا باعث بنتی ہیں اُن کی بندش سے یقیناً یورپ میں ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی ہوگی۔

یونائیٹڈ کنگڈم بھی 2030 اور 2035 تک 40 ملین گاڑیوں کے دھویں سے محفوظ ہو جائے گا (حالانکہ برطانیہ میں اب بھی کوئی گاڑی دھواں چھوڑتی دکھائی نہیں دیتی) صرف یہی نہیں پورے یو کے میں شجر کاری میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ملک کے کل رقبے کے 13 فیصد حصے پر تین بلین سے زیادہ درخت اور جنگلات ہیں مگر اس کے باوجود درخت لگانے کا رجحان بڑھ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں سالانہ آٹھ سو سے چودہ سو ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔اتنی بارش ہونے کے باوجود لندن یا کسی اور شہرمیں کبھی نکاسی آب کا کوئی مسئلہ در پیش نہیں ہوتا کیونکہ پورے ملک میں سیوریج سسٹم بہت جدید طریقے سے بنایا گیا ہے۔لندن میں جب بارش ہوتی ہے تو واقعی یوں لگتا ہے کہ باران رحمت کی وجہ سے پورا شہر دھل کر نکھرگیا ہے۔ موسلا دھار بارش کے بعد بھی کہیں پانی کھڑا نہیں ہوتا۔

 ویسے تو انگریزوں کی اکثریت کام پر جانے سے پہلے محکمہ موسمیات کی پیش گوئی پر ضرور نظر ڈالتی ہے لیکن پھر بھی گوروں کا کہنا ہے کہ موسم اور عورت کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اسی لئے برطانیہ میں کام پر جانے والے لوگوں کے بیگ یا ہاتھ میں ایک چھتری ضرور ہوتی ہے۔ جن ملکوں میں کم بارش ہوتی ہے وہاں آسمان پر بادل دیکھتے ہی لوگ سرشاری اور روحانی کیفیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پرصحرائی علاقوں میں بارش کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی، موسلا دھار بارش سے ریگستان بھی نخلستان بن جاتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے حکومتی منصوبہ بندی اور عملی اقدام کے ساتھ ساتھ لوگوں میں اس عالمی مسئلے کے بارے میں آگاہی اور شعور کو بیدار کرنا بھی ضروری ہے۔

 یو کے سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں بچوں کو پرائمری سکول سے ہی ماحولیاتی آلودگی سے متعلق معلومات اور تربیت کی فراہمی شروع کر دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہر خو شحال ملک کے دریا، سمندر، جھیلیں، ساحل، نہریں اور تفریح گاہیں آلودگی سے محفوظ نظر آتی ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جس مذہب میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے اس کے ماننے والے گندگی پھیلانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے جس کی سب سے بڑی مثال عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی الائشوں کو گلی محلوں میں پھینک دینا ہے۔

برطانیہ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سردی اور سرد موسم کے دورانیے میں کمی جبکہ درجہ حرارت اور سورج نکلنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سورج کی روشنی یعنی دھوپ کو دنیا بھر میں نعمت سمجھا جاتا ہے۔ سولر انرجی سے دنیا بھر میں بجلی بنائی جاتی ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں یو کے میں سورج بہت کم نکلتا ہے لیکن پورے یونائیٹڈ کنگڈم میں سورج کی روشنی سے بجلی بنانے میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ پندرہ لاکھ سے زیادہ برطانوی گھروں میں سولر پینل لگے ہوئے ہیں اور وہ ان کے ذریعے سے بجلی کے حصول میں خودکفیل ہیں۔ دھوپ سے بجلی پیدا کرنے کو دنیا میں سب سے زیادہ ماحول دوست ذریعہ سمجھا جاتاہے۔ پورے یونائیٹڈ کنگڈم میں بہت سی پرائیویٹ کمپنیاں لوگوں کو اپنے گھروں کی چھت پر سولر پینل لگوانے اور سستی بجلی حاصل کرنے کی ترغیب دیتی رہتی ہیں۔ اس ماحول دوست طریقے سے بجلی کے حصول کا طریقہ اپنانے والوں کو حکومت کی طرف سے قرض اور مالی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ برطانیہ میں سولرانرجی سے بجلی پیدا کرنے والی کئی کمپنیز کے انجینئرز نے پاکستان کے بھی دورے کئے جہاں وہ دھوپ کی شدت اور سورج کی حدت دیکھ کر حیران رہ گئے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ پاکستان میں آج بھی گیس، تیل، کوئلے اور پانی سے بجلی پیدا کی جاتی ہے تو وہ اپنا سر پیٹ کر رہ گئے کہ جس ملک میں سال کے بارہ مہینے دھوپ نکلتی ہووہاں اتنے مہنگے ذرائع سے بجلی بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ ایک شخص میٹھے پانی کے چشمے کے کنارے بیٹھا ہو اور پیاس کی شدت سے اس کی جان نکلی جا رہی ہو لیکن وہ اس چشمے کا پانی نہ پیئے۔ گیس، تیل اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنا نہ صرف بہت مہنگا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب ہے اور دنیا بھر میں اور اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ معلوم نہیں سولر انرجی کی بجائے دیگر مہنگے اور ماحول دشمن ذرائع سے بجلی کے حصول میں پاکستانی حکومت اور اس کے ارباب اختیار کی کون کون سی مصلحتیں وابستہ ہیں۔ جس ٹیکنا لوجی سے لوگ اپنی زندگی میں آسانی اور سہولتیں حاصل کر رہے ہیں ہم اس سے گریز کرنے پر کیوں مصر ہیں؟

ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر میٹھے پانی کو سمندر میں جانے اور ضائع ہونے سے روکنے کے لئے طرح طرح کے پراجیکٹ بنائے جا رہے ہیں۔ پوری دنیا میں گرمی کی شدت بڑھنے سے برف پگھل کر دریاؤں کی طغیانی اور سیلاب کا باعث بنتی ہے۔ بیشتر ملکوں نے اس مسئلے کے حل کے لئے ڈیمز اور جھیلیں بنا کر میٹھے پانی کو ضائع ہونے سے بچا لیا ہے۔ جو میٹھا پانی سمندر میں جا گرتا تھا اب اُسے محفوظ کر کے انسانوں کے استعمال، کھیتوں کی سیرابی اور بجلی پیدا کرنے کے لئے کام میں لایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے لوگ کس قدر بد نصیب ہیں کہ ہرسال سیلاب اور دریاؤں کی طغیانی کا سامنا کرتے ہیں لیکن کسی حکومت کو خیال نہیں آتا کہ ضائع ہو نیوالے اس میٹھے پانی کو محفوظ کرنے کے لئے ڈیم اور جھیلیں بنائی جائیں تا کہ آنے والے وقتوں میں ہماری نسلوں کو قحط اورخشک سالی سے بچایا جا سکے۔

 بدقسمتی یہ ہے کہ جو حکمران زندہ نسل کی زندگیاں بچانے کے بارے میں بھی نہ سوچتے ہوں وہ آئندہ نسلوں کی فکر کیسے کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستانی حکمرانوں اور سیاستدانوں کی بصیرت کا ماتم کرنے کی بجائے دعا کرنی چاہئیے کہ خالق کا ئنات ہمارے عوام پر اپنا کرم فرمائے اورا نہیں بے حس حکمرانوں کے ظلم وستم سے بچائے۔ مہنگائی اور موسموں کی شدت نے مجبور اور لاچار عوام کا یہ حال کردیا ہے کہ

گرمی لگی تو خودسے الگ ہو کے سو گئے

سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا

بیدل لباسِ زیست بڑا دیدہ زیب تھا

اور ہم نے اس لباس کو الٹا پہن لیا

(بیدل حیدری)

 

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA