img

خدشات جو حقیقت بنے - حل کیا ہے؟

 

جمعہ کو اپ لوڈ کی گئی اپنی تحریر میں اس احقر نے بجلی مہنگی ہونے کے بعد جس عوامی ردعمل کا خدشہ ظاہر کیا تھا،خاکم بہ دہن آج کراچی سے خیبر تک عوام کے احتجاج نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔دوسری جانب نگران حکومت نے آئی واش کے پہلے مرحلے میں گریڈ 17 سے 22 تک کے افسروں کے لئے مفت بجلی کی سہولت ختم کرنے کا اعلان تو کیا ہے مگر ساتھ ہی ان بیورو کریٹس کے لئے اس کے متبادل کے طور پر الاؤنس کا عندیہ بھی دیا۔  بعد ازاں دوسرے مرحلے میں نگراں وزیر اعظم نے  بجلی  مہنگی کرنےسے پیدا شدہ صورتحال کا نوٹس لیا اتوار کو وزراء اور سیکرٹریز سے 2 گھنٹے مشاورت کے بعد معاملے پر پیش رفت کے لئے ایک طرح سے 48 گھنٹے کی مہلت عوام سے طلب کی گئی ہے ۔نگران وزیر اعظم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام کو ہر ممکن ریلیف دیا جائے گا-

 اتوار کو سندھ،پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تیسرے روز بھی عوامی احتجاج جاری رہا اور مظاہرین نے بڑی تعداد میں بجلی کے بل نذر آتش کئے ،اس ساری صورتحال پر ایم کیو ایم نے فسادات اور سول نافرنی کے خدشات ظاہر کئے ہیں اور مہنگی بجلی کے خلاف تحریک شروع کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ جمیعت علماء اسلام نے 27 اگست کو خیبر پختونخوا میں بھرپور احتجاج کیا۔ اے این پی نے 28 اگست یعنی آج بروز پیر  خیبر پختونخوا میں احتجاج کی کال دی ہے جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے بھی 2 ستمبر کو اس معاملے کو لے کرسڑکوں پر آنے کا اعلان کیا گیا ہے- دوسری طرف حیران کن طور پر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نیر بخاری نے بھی پارٹی کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف عوامی احتجاج کا بھر پور حصہ بنیں۔

بجلی کی سپلائی کو ممکن بنانے کی ذمہ دار کمپنیوں کی جانب سے اپنی سیکورٹی کے لئے اقدامات کرنے کے مطالبات بھی سامنے آرہے ہیں اور میٹر ریڈرز و دیگر عملہ کئی مقامات پر  جانے سے گریزاں دکھائی دیتا ہے-

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے نگران وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کی طفل تسلیوں کو دھوکہ دہی سے تعبیر کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے کئے گئے سٹینڈ بائی معاہدے میں گردشی قرضے اور سبسڈیز کا خاتمہ اور بجلی کی قیمت میں اضافہ بھی شامل ہے اس لئے نگران وفاقی حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کی سپیس نہ ہونے کے برابر ہے-شاید اسی وجہ سےنگراں وزیر اعظم نے 2 گھنٹے کی مشاورت کے بعد عوام سے 48 گھنٹے کی مہلت مانگی ہے-

بجلی کے بلوں میں کپیسٹی سرچارج یا ٹیکس کےنام پر 2000 ارب روپے عوام سے نکالنے کی خبریں بھی مین سٹریم میڈیا میں سامنے آچکی ہیں جس سے نگراں حکومت کے ریلیف دینے کے دعوؤں کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹنے کے خدشات بھی نوشتہ دیوار  ہیں ،ملک میں آئی ایم ایف کے خلاف بعض مذہبی سیاسی جماعتیں جو بھی موقف رکھتی ہیں اس سے قطع نظر یہ بات ہر ذی شعور اچھی طرح جانتا ہے کہ نجی سطح پر بھی اگر کوئی کاروبار کے لئے کسی سے قرض حاصل کرتا ہے تو رقم فراہم کرنے والے کی جانب سے اس کو چند نصائح اس حوالے سےکر دی جاتی ہیں کہ اس نے کس طرح کاروبار کرکے رقم کی واپسی یقینی بنانی ہے اور اگر قرض لینے والا ان نصائح کو خاطر میں نہیں لاتا تو نہ صرف اسے نقصان ہوتا ہے بلکہ قرض فراہم کرنے والے کو بھی ذہنی کوفت کے ساتھ اپنی نصائح کی بے توقیری کا صدمہ  برداشت کرنا پڑتا ہے اور رقم ڈوبنے کا صدمہ الگ ہوتا ہے۔ مگر آئی ایم ایف کی سطح کے ادارے پہلے اپنی نصائح پر عملدرآمد کراتے ہیں اور رقم کی فراہمی بھی ان نصائح پر مقروض ملک کو عمل پیرا ہوتے دیکھ کرہی کرتے ہیں -

ایوب خان سے لے کر پی ٹی آئی حکومت تک صرف ن لیگ نے 2013ء سے 2018 ءکےدور میں ایک آئی ایم ایف پروگرام کامیابی سے مکمل کیا مگر اس دور کے آخری مہینوں میں جس طرح کےمالی معاملات رہے تو اس نے پی ٹی آئی کے اقتدار کے آغاز سے ہی خالی خزانے کی فریادیں عمران خان کی زبان سے جاری کرادیں اور بعد میں پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف معاہدے کے ساتھ جو سلوک کیا اس عمرانی احسان کا بدلہ چکاتے آج عوام دہائیاں دیتے نظر آتے ہیں۔

موجودہ حالات کی ذمہ دار صرف پی ٹی آئی نہیں بلکہ سابق اتحادی حکومت بھی اس میں برابر کی شریک ہے ،کیونکہ اتحادیوں نے پرانا پاکستان واپس عوام کودلانے کا وعدہ و اعلان کیا تھا مگر اب نہ نیا پاکستان ہے نہ پرانا-

حکمرانوں کے اسی طرز عمل سے آئی ایم ایف نصائح کڑی شرائط میں بدلتی رہیں اور حکمران عوام پر سارا بوجھ ڈالتے رہے اب کی بار آئی ایم ایف سے  متعلق حکمرانوں کاسابق رویہ برقرار رہا اور غلط و حقائق سے متصادم پالیسیاں نہ بدلی گئیں تو پھر آئندہ کیا حالات ہوسکتے ہیں اس پر کوئی پیشن گوئی مشکل امر نہیں ۔نگران وفاقی حکومت کےلئے ایسے میں عوام کو ریلیف دینا جوئے شیر لانے کے مترادف ثابت ہوسکتا ہے-

ساری دنیا میں جہاں جہاں سبسڈی دی جاتی ہے وہاں مالی طور پر کمزور  طبقے پہلی ترجیح ہوتے ہیں مگر ہمارا انوکھا ملک غرباء سے زیادہ امراء کو اس کا حقدار قرار دیتا ہے جیسا کہ عام آدمی کو تو بجلی الاؤنس میسر نہیں مگر گریڈ 17 سے 22 تک کے حکام کو یہ استحقاق دیا جارہاہے، جہاں پناہ گاہوں پر 40 کروڑ اور وزیر اعظم کے گھر سے دفتر تک ہیلی کاپٹر پر 97 کروڑ خرچ ہوں توایسے میں پھر تمام دعوے دھرے رہ جاتے ہیں۔

انہی سطور میں یہ احقر پہلے بھی عرض کر چکا ہے کہ اصل مالک کو اس کا مقام دیئے بغیر ہر وعظ ونصیحت اور ہر دعویٰ بے کار ہوگا۔کم ازکم حکمران اشرافیہ کو تب تک اپنی مراعات سے دستبردار ہونا ہوگا جب تک ملک سے غربت اور افلاس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔جب تک اقتدار کے اصل مالک ہر شہری کو وہ سہولتیں نہیں ملتیں جواس کے ملازمین کو حاصل ہیں تب تک بہتری کی توقع خام خیالی یا خود فریبی ہی کہلائے گی۔سرکاری ملازمت کے لئے آنے والوں کی مالی حیثیت اور ان کے زیر کفالت افراد کو مدنظر رکھ کر تنخواہوں کا نظام مرتب کیا جائے اگر ملازمت اختیار کرتے وقت ان کے تمام معاملات کی چھان بین کرلی جائے اورصاحب ثروت ملازمین کے لئے تنخواہیں غریب ملازم سے کم رکھی جائیں جبکہ غریب کو اس کی تمام ضروریات پوری کرنے کے قابل بنایا جائے تب ہی بہتری کی امید رکھی جاسکتی ہے اور معاشرے میں پھیلی معاشی افراط وتفریط سے نجات کی صورت سامنے آسکتی ہے مگر یہاں سالانہ اربوں ڈالرز کی مراعات لینے والےنام نہاد عوامی نمائندے اور سرکاری ملازمین اس سب پر تیار نظر نہیں آتے کیونکہ یہاں عوام کو قربان کرنا اور خود کو بچانا ہی قانون ودستور اور رواج بن چکا ہےجس کے خاتمے تک ہم جیسے اس قرطاس کو اسود بناتے رہیں گے-

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA