سری لنکا کے دورے پر موجود پاکستان کی ٹیم نے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ابتدا ہی سے اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ پاکستانی بولرز نے لنکن بلے بازوں کو 166 رنز پر محدود کر کے پویلین روانہ کر دیا۔ کولمبو میں آج شروع ہونے والے دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو میزبان ٹیم کے لئے فائدہ مند ثابت نہ ہوا اور پوری ٹیم 166 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ پاکستانی پیسرز اور سپنر کے شاندار کمبی نیشن نے کسی وکٹ پر سری لنکن بیٹرز کو لمبی شراکت داری کرنے کی اجازت نہ دی۔ ابتدا ہی سے وکٹیں گرنے کے باعث سری لنکا کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی اور پہلے میچ کے طرح دھننجیا ڈی سلوا نے اپنی سی کوشش ضرور کی لیکن اس مرتبہ وہ بھی لمبی اننگ کھیلنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

سری لنکا کو پہلا نقصان 9 رنز کے مجموعے پر اٹھانا پڑا جب اوپنر نشان مدوشکا رن لینے کی کوشش میں مس انڈرسٹینڈنگ کا شکار ہو کر رن آؤٹ ہو گئے۔ وہ صرف 4 رنز بن سکے۔ سری لنکا کی دوسری وکٹ 23 رنز پر گری جب کسال مینڈس شاہین آفریدی کی گیند پر متبادل محمد رضوان کے ہاتھو کیچ آؤٹ ہوئے۔ تیسری وکٹ 35 رنز پر گری جب نسیم شاہ نے اینجلو میتھیوز کو نسیم شاہ نے وکٹ کیپر سرفراز احمد کے ہاتھوں 9 رنز کے انفرادی سکور پر پویلین روانہ کیا۔ صرف ایک رن کے اضافے کے بعد 36 کے ٹوٹل پر سری لنکا کو چوتھا نقصان اٹھانا پڑا اور اس مرتبہ نسیم شاہ نے کپتان ڈیموتھ کارونا رتنے کو 17 کے انفرادی سکور پر بولڈ کیا۔ اس کے بعد سری لنکن بیٹرز نے کچھ سنبھل کر کھیلنے کی کوشش کی اور سکور 121 تک پہنچا دیا جب پانچویں وکٹ دنیش چندی مل کی صورت میں گری جو نسیم شاہ کی گیند پر امام الحق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو کر کریز چھوڑ گئے۔ 122 رنز پر چھٹی وکٹ نوجوان اسپنر ابرار احمد کے حصے میں آئی جنہوں نے وکٹ کیپر بلے باز سدیرا سماراوکرمہ کو صفر پر عبداللہ شفیق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروایا۔ 133 پر سری لنکا کو ساتویں وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا اور پچھلے میچ کے ہیرو اور سری لنکا کی آخری امید دھننجیا ڈی سلوا 57 رنز بنا کے آؤٹ ہوئے ان کی وکٹ بھی ابرار احمد کے حصے میں آئی۔ 136 پر آٹھویں وکٹ گری اور پرباتھ جے سوریا 1 رن بنا کے شان مسعود کے ہاتھوں رن آؤٹ ہوئے۔ 163 پر نویں اور 166 پر آخری وکٹ گری جب اسیتھا فرنینڈو 8 اور رمیش مینڈس 27 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
پہلے ٹیسٹ کی طرح دوسرے ٹیسٹ میں بھی سری لنکا کے بلے باز بڑی پارٹنر شپس سے محروم رہے جو ٹیسٹ میچ میں ایک بڑا مجموعہ کھڑا کرنے کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ سری لنکا کی پہلی وکٹ پر صرف 9 رنز کی پارٹنر شپ بن سکی۔ دوسری وکٹ پر 14، تیسری وکٹ پر 12 اور چوتھی وکٹ پر صرف 1 رن کی پارٹنر شپ بنی۔ پانچویں وکٹ پر دھننجیا ڈی سلوا اور دنیش چندی مل نے 119 گیندوں پر 85 رنز کی پارٹنر شپ بنائی یہ واحد بڑی پارٹنر شپ تھی جس کے بعد چھٹی وکٹ پر 1، ساتویں وکٹ پر 11، آٹھویں وکٹ پر 3، نویں وکٹ پر 27 اور آخری وکٹ پر محض 3 رنز کی شراکت داری بنی۔
نوجوان اسپنر ابرار احمد کی گھومتی ہوئی گیندوں نے پہلے ٹیسٹ کی طرح دوسرے میچ میں بھی لنکن بلے بازوں کو پریشان کئے رکھا پہلے ٹیسٹ میں 6 وکٹیں لینے والے اسپنر نے دوسرے میچ کی پہلی اننگ میں 4 وکٹیں حاصل کیں۔ ابرار احمد نے سب سے اہم وکٹ دھننجیا ڈی سلوا کی حاصل کی جو 57 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سدیرا سماراوکرما، رمیش مینڈس اور اسیتھا فرنینڈو کی وکٹیں بھی ہتھائیں۔ پاکستانی پیسرز بھی پیچھے نہ رہے اور نسیم شاہ نے 3 جبکہ شاہین آفریدی نے 1 وکٹ حاصل کی۔ ایک مرتبہ پھر پاکستانی کھلاڑیوں نے شاندار فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا اور 2 رن آؤٹ کرنے کے علاوہ پانچ بہت ہی شاندار کیچز بھی تھامے گزشتہ میچ میں بھی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں نے بہترین فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا تھا اور دنیا کی بہترین بولنگ اور بیٹنگ کی حامل ٹیم کی خراب فیلڈنگ کا طوق بھی گلے سے اتار پھینکا۔ پچھلے میچ میں سری لنکا کی بیٹنگ لائن اپ کو سنبھالنے والے بلے باز دھننجیا ڈی سلوا 57 اور دنیش چندی مل 34 رنز کے ساتھ ٹاپ سکورر رہے۔ جواب میں پاکستان نے پہلے روز کے اختتام تک 2 وکٹوں کے نقصان پر 145 رنز بنا لئے۔ شان مسعود 51 اور امام الحق 6 رنز بنا کر آؤٹ ہونے۔ عبداللہ شفیق 74 اور کپتان بابر اعظم 8 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں اور کل 145 رنز پر دوبارہ اننگز کا آغاز کریں گے۔
پہلے میچ کی طرح دوسرے میچ میں بھی گرین شرٹس نے کچھ ابھی پارٹنر شپ کے ساتھ ایک مضبوط اننگ کی بنیاد رکھ دی ہے۔ پہلی وکٹ پر صرف 13 رنز کی پارٹنر شپ بنی تاہم دوسری وکٹ پر شان مسعود اور عبداللہ شفیق نے 116 گیندوں پر 108 رنز کی شاندار پارٹنرشپ کے ذریعے ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ شان مسعود کے آؤٹ ہونے کے بعد اب تیسری وکٹ پر عبداللہ شفیق اور کپتان بابر اعظم کے درمیان 41 گیندوں پر 24 رنز کی پارٹنرشپ بن چکی ہے اور میچ کے دوسرے روز یہ پارٹنرشپ آگر لمبی چلتی تو ہے پاکستان ایک بڑا ٹوٹل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ بولنگ کے بعد شاندار بیٹنگ میزبان سری لنکا کو مزید دباؤ کا شکار کر سکتی ہے۔
گرین شرٹس نے ابتدا ہی سے میزبان ٹیم کو نفسیاتی دباؤ کا شکار کر دیا ہے اگر دوسرے اور تیسرے روز صبر و تحمل اور کریز پر ٹھہرنے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے کچھ لمبی پارٹنر شپس کے ذریعے تین سو یا ساڑھے تین سو رنز کی برتری لے کر سری لنکا کو بیٹنگ دیدی جائے تو پاکستانی بولرز سری لنکا کو ایک بار پھر آؤٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی اننگ میں پہلے میچ کے ہیرو سعود شکیل ایک بار پھر مرکز نگاہ ہونگے اور ان کی ایک لمبی اننگز پاکستان کو فتح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے ابتدائی معرکے میں کامیابی اور 12 پوائنٹس کے حصول کے بعد پاکستان کے لئے یہ بہترین موقع ہے کہ دوسرا ٹیسٹ بھی جیت کے پوائنٹس ٹیبل پر 24 پوائنٹس کے ساتھ آسٹریلیا کے برابر ہو جائے جو ایشز سیریز کے دو ٹیسٹ جیت کر 24 پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست ہے۔