موجودہ چیف جسٹس کے حوالے سے پی ٹی آئی کے حامی یوٹیوبر نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ریٹائرمنٹ سے قبل تین اہم فیصلے کریں گے جن میں ایک نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی رٹ اور دوسرا آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف کیس بتایا جاتا ہے۔
نیب ترامیم کے حوالے سے کیس چیف جسٹس کے لئے دودھاری تلوار کی صورت ہے اگر وہ اس کو کالعدم قرار دیتے ہیں تو سابق اتحادی قیادت کے ساتھ عمران خان بھی پھر نیب کے رحم وکرم پر ہونگے اور اگر عمران خان کی درخواست مسترد کرتے ہیں تو چیئرمین پی ٹی آئی کو اتنا فائدہ نہیں ہوگا جتنا سابق اتحادی قیادت کے حصے میں آئے گا۔
صدر عارف علوی کے ساتھ اہم ترین شخصیات کی ملاقات کی خبروں کے بعد ظاہر ہے چیف جسٹس کے پاس بھی اس ملاقات کی اندرونی کہانی پہنچ گئی ہوگی۔ اس ملاقات کے بعد جس طرح صدر عارف علوی اب انتخابات کی تاریخ دینے کے اعلان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں ممکن ہےویسا ہی کوئی عمل چیف جسٹس بھی دوہرائیں مگر جسٹس بندیال کی مجبوریاں صدر علوی سے زیادہ ہیں اور ان کی باعزت ریٹائرمنٹ کی راہ میں یہی مجبوریاں بظاہر رکاوٹ ہیں ۔بہر حال وہ جو بھی فیصلے کرنے کا سوچ بیٹھے ہیں اس کا بوجھ سپریم کورٹ نہیں بلکہ خود انہیں اور ہمخیال ججز کو اٹھانا پڑے گا۔
دوسری جانب 17 ستمبر کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے چیف جسٹس کا حلف اٹھانے کے بعد نہ صرف یہ کہ جسٹس بندیال کے انوکھے انصاف کے تحت دیئے جانے والے فیصلے برقرار رہنا ممکن نہیں بلکہ ملک میں سٹیبلشمنٹ کے موجودہ رویئے کا برقرار رہنا بھی مشکل میں پڑ سکتا ہے جس سے عدلیہ اور سٹیبلشمنٹ کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں بہتری ممکن نظر نہیں آتی ۔ خاکم بہ دہن اگر ایسا کچھ ہوا تو یہ مشرف دور سے بھی زیادہ خطرناک صورتحال ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جسٹس بندیال 3 اہم کیسز کا کیا فیصلہ کرتے ہیں کیونکہ ان کیسز کے فیصلے ہی عدلیہ اور سٹیبلشمنٹ کے مستقبل کے لئے اہم انڈیکیٹر ز ہونگے۔