اس حقیقت سے کسی بھی ذی شعور شہری کے لئے انکار ممکن نہیں کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ معاملات کو متنازعہ کرکے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اس میں کئی بار اسے کامیابی ہوئی مگر اس قسم کی کامیابیاں ہمیشہ وقتی ثابت ہوئیں اور کئی بار اسے منہ کی کھانا پڑی جس کے سنگین نتائج دیرپا ثابت ہوئے۔
ماضی قریب میں 9 مئی کے واقعات اس سلسلے کی سب سے خطرناک مثال ہے جس کے بعد نہ صرف پارٹی کا شیرازہ بکھرا بلکہ اس پر یا کم از کم عمران خان سمیت صف اول کے کئی رہنماؤں پر سیاست کے دروازے بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ اس سب صورت حال میں ملک کے صدر نے اپنے عہدہ کی میعاد سے قبل ایک ایسی انوکھی حرکت کی ہے جس سے صدر نے ایک بار پھر اداروں کو امتحان میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ اپنی متنازعہ حیثیت کو وہ اوج کمال بخشا ہے جو فوجی آمر صدور کے بعد شاید ہی کسی کا مقدر ہو۔
اتحادی حکومت نے مدت اختتام سے کچھ قبل جس مقدار اور جس طوفانی رفتار سے بلز کی منظوری دی وہ ایک الگ بحث طلب معاملہ ہے یہاں تک کہ پی پی پی،ن لیگ اور جے یو آئی ف کے اراکین پارلیمان نے بھی منظوری کے طریق کار پر نہ صرف اعتراضات اٹھائے بلکہ کھلے بندوں احتجاج سے بھی دریغ نہ کیا مگر اس کا کیا کیا جائے کہ جب ایک بار اعلی سطح پر کوئی فیصلہ کرلیا جائے تو اس پر ارکان پارلیمان کے آواز اٹھانے کی وقعت مہنگائی پر عام شہری کی دہائیوں سے زیادہ نہیں ہوتی ۔پارلیمان کے اختتام کے قریب اس کے پاس کردہ کئی بلز ایوان صدر سےاعتراض کے ساتھ واپس بھجوائے گئے مگر ترمیم شدہ آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی گرفتاری اور پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل اسد عمر کی نیم گرفتاری کی خبریں سامنے آئیں اور اس کے بعد جس طرح صدر عارف علوی نے ٹوئٹ کرکے ان ترمیمی بلز کی منظوری کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی وہ نہ صرف ان کے عہدے بلکہ پارلیمان اور عوام کی توہین کے مترادف گردانی گئی۔ اس تنازع پر پی پی پی نے صدر سے مستعفی ہونے تک کا مطالبہ کردیا جبکہ ن لیگ نے اسے سانپ مارنے اور لاٹھی بھی بچانے سے تشبیہہ دی ہے جبکہ ظاہر ہے کہ عارف علوی کی ٹوئٹ کی ممکنہ بییفشری پی ٹی آئی نے ان دونوں ترمیمی بلز کی منظوری کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اپنی ٹوئٹ میں صدر عارف علوی نے جس موقف کا اظہار کیا ہے وہ جہاں پی ٹی آئی کی جانب سے مختلف امور کو متنازعہ بنانے کی روایت کے عین مطابق ہے وہاں اس میں غیر متوقع طور پر ایک ایسی بات بھی شامل ہے جو نہ صرف پی ٹی آئی کی روایات سے مطابقت نہیں رکھتی بلکہ اس سارے معاملے کو مشکوک ثابت کرنے میں مجھ ناچیز کی رائے میں اہم ہے۔ پی ٹی آئی کی تاریخ غلطیوں بلکہ بلنڈرز کا مجموعہ رہی ہے مگر نہ صرف پی ٹی آئی نے ہمیشہ اپنی غلطیوں کا دفاع کیا ہے بلکہ ثابت شدہ غلطیوں پر معافی تو کجا معذرت تک کرنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی اور اگر اکا دکا معاملات پر معذرت کی بھی ہے تب بھی اس پر اپنی اعلانیہ پالیسی یعنی یو ٹرن لے کر اپنی بزعم خود عظمت کا اقرار بھی کیا ہے ۔جیسا کہ 9 مئی کے واقعات پر چیف جسٹس کی فرمائش نما استدعا کے باوجود عمران خان نے مذمت کرنے سے صاف انکار کیا اور اسے سٹیبلشمنٹ کی کارستانی قرار دیا مگر چند دن بعد ہی یو ٹرن لے کر مذمت کردی اور ابھی اس مذمت پر میڈیا کی جانب سے تبصرے کسی کروٹ نہیں بیٹھے تھے ایک بار پھر یو ٹرن لے کر 9 مئی کے واقعات کا عمران خان نے دفاع شروع کردیا ۔
اب عارف علوی نے جہاں ان ترمیمی بلز کی منظوری سے براءت ظاہر کی ہے وہیں اس سے متاثر ہونے والوں سے معافی بھی مانگ لی ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جو ن لیگ کے سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنے بیان میں کہی ہے جس میں عارف علوی کی معافی کو جہاں ایک تیر سے 2 شکار کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے وہاں یہ معافی اس اقرار کو بھی عیاں کرتی ہے کہ ایوان صدر کے اس متنازعہ ترین مکین کے نزدیک مذکورہ ترمیمی بلز اب قانون کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے مایہ ناز بیرسٹر علی ظفر صدرعلوی کی معافی میں پنہاں اس قانون سازی کو تسلیم کئے جانے کے اعتراف کے باوجود اس کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ دوسری جانب پلڈاٹ کے سربراہ نے معافی مانگنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے صدر علوی سے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایوان صدر کے پرنسپل سیکرٹری وقار احمد نے صدرعلوی کی جانب سے کسی وضاحت کے عدم اجراء کے لئے دباؤ کو مسترد کرکے ایک خط عارف علوی کو لکھا جو میڈیا پر بھی آیا جس میں صدرعلوی کے موقف کو حقیقت کے برعکس قرار دیا گیا اور اس سلسلے میں کسی بھی ایجنسی سے انکوائری کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا جبکہ کسی بھی عدالت میں ثبوت کے ساتھ اپنا موقف درست ثابت کرنے کی بات بھی اس میں تحریر کی ۔ اس کے بعد مناسب تو یہی ہوتا کہ صدرعلوی اپنے پرنسپل سیکرٹری کے خلاف عدالت جاتے مگر انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس سے رابطہ کرکے پرنسپل سیکرٹری کو تبدیل کرنے اور قومی ورثہ میں تعینات حمیرا احمد کو ایوان صدر میں اس عہدے پر تعینات کرنے کی فرمائش کردی۔ جس پر وزیراعظم ہاؤس نے قرار دیا کہ صدر کسی کو تبدیل یا تعینات کرنے کا حق نہیں رکھتے اور ان کی ایسی کسی بھی فرمائش کو تسلیم کرنا بھی ضروری نہیں ۔مزید کہا گیا کہ نگراں حکومت ہونے کے باعث ایسے کسی بھی فیصلے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے۔
اس دوران یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ صدر عارف علوی نے وقار احمد کو خاموشی کی صورت میں آئندہ پی ٹی آئی حکومت بننے پر کمپنسیٹ کرنے کی پیشکش بھی کی جس پر پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ ان کی ریٹائرمنٹ میں چند ماہ ہی باقی ہیں اور وہ ایسے کسی ناکردہ گناہ کا بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں جبکہ اگلے ماہ ان کی بیٹی کی شادی بھی ہے اس موقع پر اس تکلیف سے نہیں گزرنا چاہتے ۔دوسری جانب صدر عارف علوی نے جس خاتون کو پرنسپل سیکرٹری مقرر کرنے کی فرمائش کی اس نے بھی اپنے متعلقہ وزیر کے سامنے اس پر پریشانی کا اظہار کیا اور اپنی ایوان صدر میں ممکنہ تعیناتی سے انکار کیا ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سارے ڈرامے کا ڈراپ سین کیا ہوتا ہے ۔ مین سٹریم میڈیا میں پی ٹی آئی کور کمیٹی کی جانب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے خلاف سپریم جو ڈیشل کونسل میں شکایت یا ریفرنس دائر کرنے کے حوالے سے خبر سامنے آئی مگر اس میں وہ الفاظ شامل نہیں کئے گئے جو معروف صحافی عاصمہ شیرازی نے سوشل میڈیا پر اپنے وی لاگ میں کور کمیٹی سے منسوب کرکے پیش کئے جس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے حوالے سے پی ٹی آئی کور کمیٹی نے اخلاقی وقانونی جواز کے قاتل،پیشہ ورانہ بددیانت اور عدالت کو سیاسی انجینئرنگ کا اڈہ بنانے والے چیف جسٹس کہہ کر پکاراہے جبکہ ان کے حوالے سے دیگر نازیبا الفاظ بھی استعمال کئے گئے ۔ اس ریفرنس میں کسی ثبوت پر مبنی بات شامل نہیں محض الزامات اور ایسی زبان کا استعمال ہے جو اعلٰی عدلیہ کے کسی بھی جج کی صرف توہین ہی قرار دی جاسکتی ہے۔
یہ شکایت یا ریفرنس کوئی رنگ لاتا ہے یا نہیں یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا مگر اس سے بین السطور میں یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عمران خان کو سزا اور صدرعلوی کو ہر طرف سے ہونے والی تنقید کے بعد اب کور کمیٹی کو بھی تنازعات میں گھرنے کی طلب ہورہی ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ریٹائرمنٹ کے بعد تحریک انصاف کی کور کمیٹی کی یہ خواہش بھی پوری ہوجائے۔ اگر ایسا ہوگیا تو یہ سب شاید کور کمیٹی ارکان برداشت نہ کر سکیں۔