سن 2018 کے عام انتخابات اور اس کے نتیجہ میں وجود پانے والی حکومت ایک پالیسی اور مخصوص ڈاکٹرائن کا نتیجہ تھی میری ذاتی طور پر اس وقت بھی یہی رائے تھی کہ 2018کے انتخابات پالیسی انتخابات ہیں اور ویسا ہی ہوا بالآخر خامیوں و خوبیوں کے دعووں و الزامات کے ساتھ دوران سفر بظاہر آئینی طریقے کار سے ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان شخص کو تبدیل کرلیا گیا ،جبکہ حقیقت یہی ہے کہ سیٹ چھینی گئی جس میں وہی ڈاکٹرائن استعمال میں لائی گئی جو حکومت بناتے وقت استعمال کی گئی تھی اور یوں ایک نئی قیادت قوم پر لاکر بٹھا دی گئی اس ڈاکٹرائن کے تجرباتی عمل سے کیا کھویا کیا پایا یہ تو مورخ کے مشقت کےلیے کافی ہوگا ۔
اتنا دعوی تو ڈنکے کی چوٹ پر کیاجاسکتا ہے کہ ان تجربات میں رہبر نما رہزنوں نے سب کچھ پالیا اور قافلے کی حالت یہ کہ آج پارلیمانی مدت کے مکمل ہونے پر عوام کی حالت بعینہ اس قافلہ کی سی ہے جو بےآب و گیاہ صحرا میں لوٹ لیا گیا اور اس سے واپسی کے نشان تک بھی چھین لیے گئے
پاکستان کی تاریخ میں ایک بار پھر پارلیمان اپنی مدت مکمل کرچکا ہے اور ملکی انتظام و انصرام نگران حکومت کے ہاتھ سونپا جارہاہے آج یہ پہلا موقع ہے جب قوم کو مستقبل کا نقشہ واضح دکھائی دے رہاہے کہ 'عوام ہی اصل قوت ہیں' کا نعرہ کم از کم پاکستان جیسے ملک میں صادق و امین نہیں ہوسکا اور نہ ہی اس کی امید کی جاسکتی ہے کیوں کہ عوام نے بھی کبھی اس نعرہ میں مضمر اپنے تعارف کا حقیقی معنوں میں ادراک نہیں کیا۔
آئینی تقاضا کے عین مطابق عوام کو نئے رہبر کےلیے 90 دن ہی انتظار کرنا ہوتا ہے مگر جس طرح پنجابی کی کہاوت معروف ہے کہ (ڈاڈھے دا ستین بہیں سو ) طاقتور کا100 بیس کو 7 بار ضرب دینے سے مکمل ہوتا ہے جبکہ حقیقت میں تو بیس کو پانچ بار ضرب دینے سے 100 مکمل ہو جاتاہے۔ یہی حالت ہمارے سیاسی نّوے کی ہے۔ کبھی یہ 90 دن گیارہ سال میں مکمل ہوتے ہیں اور کبھی آٹھ یا نو سال کھا جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا کہ وفاق پنجاب کے نقش قدم پر چلتا ہے یا آئینی تقاضوں کا احترام کرتاہے
اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ مملکت خداد پاکستان اور باسیان پاکستان اس دلدل میں الجھے ہوئے ہیں کہ پرانے پر تبصرے سنیں یا نئے کی توقعات سے دل بہلائیں ؟
محرومیوں کی کتاب پڑھیں یا امید کے دئیے میں لہو پسینے کا تیل ڈالیں ؟
کچھ بھی کریں توقع رکھیں یا تبصرے کریں محرومیوں کو دیکھیں یا امید کا دیا روشن کریں ایک بات بہت واضح ہے کہ پاکستان میں تاحال طاقت کی ڈاکٹرائن نافذ العمل ہے اور اگر قوم تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں طاقت بننا ہوگا اور وطن کو طاقتور بنانا ہوگا ورنہ یہ وطن طاقتور کی جنت بن کر رہ جائے گا۔