سابق وزیر اعظم عمران خان کی سیاست کا محور نواز شریف،آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر پارٹیوں کے قائدین کی کردار کشی رہی،جس میں پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے بعد بے پناہ اضافہ اس وقت کی عدلیہ کی مدد سے ہوا اور پھر پارٹی وحکومتی ترجمانوں کی گالم گلوچ بریگیڈ نے رہی سہی کسر پوری کردی۔
عمران خان کے دور میں اپوزیشن سمیت ہر مخالف آواز کو جس طرح دبایا گیا وہ ملکی تاریخ کے ایک سیاہ ترین باب کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔عمران خان نے صرف اپوزیشن کو جیلوں میں نہیں ڈالا بلکہ ان کے ائر کنڈیشنر اتارنے اور گھر کا کھانا بند کرنے کےاحکامات بھی جاری کئے اور اپوزیشن کو این آراو دینے کو غداری سے تعبیر کیا۔
مجھے آصف علی زرداری کی قومی اسمبلی اور مشاہد اللہ مرحوم کی سینیٹ میں کی گئی تقاریر یاد آتی ہیں تو عمران خان اور پی ٹی آئی پرترس آنے لگتا ہے ۔آصف زرداری نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہم کو خود سے زیادہ فکرآپ(عمران خان ) کی ہے کیونکہ ہم تو ایسا سلوک پہلے بھی سہہ چکے ہیں مگر کیا آپ یہ سہہ پائیں گے ؟ جبکہ سینیٹر مشاہد اللہ مرحوم نے کہا تھا کہ ہمیں گرفتاریوں سے ڈرانے والوں کی باری آئی تو ان کے آنسو نکلیں گے اور ہمارے سوا کوئی ان کو پونچنے والا نہیں ہوگا۔
اب یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ عمران خان نے ایک سے زیادہ شخصیات کے ذریعے نواز شریف سے مدد لینے کا پیغام لندن بھجوایا ہے جس میں ان سے ایک طرح کی رحم اپیل کی گئی ہے یا عمران خان کے اپنے الفاظ اگر استعمال کئے جائیں تو جملہ کچھ یوں ہوگا کہ عمران خان نے نواز شریف سے این آر او مانگ لیا۔یہ نواز شریف کا ظرف ہی ہے کہ انھوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کے قاصد کو ملاقات کا وقت دیا اگر وہ ایسا نہ کرتے تو مشاہد اللہ مرحوم کی پیشن گوئی کیسے پوری ہوتی؟نواز شریف نے ان قاصدوں کو مشاورت کے بعد جواب دینے کا کہاہے۔
یہ ملاقاتیں مبینہ طور پر لندن میں گذشتہ 6 روز کے دوران ہونے کی اطلاعات ہیں اور ن لیگ کے رہنما احسن اقبال آن دی ریکارڈ عمران خان کی جانب سے نواز شریف کے ساتھ رابطوں کی تصدیق کر چکے ہیں۔ان ملاقاتوں میں نواز شریف کی توجہ اس امر کی جانب دلائی گئی کہ معاشی و سیاسی استحکام کے لئے سیاسی درجہ حرارت میں کمی کے لئے کردار ادا کریں۔
اسی دوران بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کے بیانات بھی منظر عام پر آئے جن میں بلاول بھٹو نے موجودہ پی ٹی آئی سے اتحاد کو خارج ازامکان قرار دیا جب ان سے 9 مئی کے ذمہ داروں کو سزا کے بعد اتحاد سے متعلق سوال کیا گیاتو انھوں نے محتاط انداز جواب دیتے ہوئے کہا کہ پھر نئی صورتحال ہوگی۔بین السطور میں انہوں نےعمران خان کو معافی نہ دینے کا اعلان بھی کردیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما بھی 9 مئی کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ گذشتہ روز مولانا فضل الرحمان بھی دبے الفاظ میں عمران خان کی سزا کی بات کرگئے ہیں۔ مولانا شروع سے ہی یہ بات کررہے ہیں کہ عمران خان سیاست دان نہیں اور پشاور میں حالیہ پریس کانفرنس میں انھوں نے زور دیکر کہا ہے کہ وہ کسی بھی سیاست دان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ان کی روایت نہیں کہ ان کا مخالف جیل میں ہو اور وہ جلسے کرتے پھریں۔
گذشتہ کچھ عرصے میں عمران خان کی اہلیہ اور بہنوں سمیت عمران خان کے حامی وکیل حامد خان نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف کا وزن حیران کن طور پر کم ہوچکا ہے اور ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔
اب اس ساری صورتحال کو بنظر غائر دیکھا جائے تو 2 ہی نتائج سامنے آتے ہیں۔ پہلا مائنس 9 مئی کے ملزم اور دوسرا عمران خان کی جلاوطنی ۔مولانا کی میڈیا ٹاک سے یہ امر مترشح ہے کہ عمران خان کو جیل سے نکال کر ملک میں نہیں رہنے دیا جائے گا ۔ اس حوالے سے مولانا نے بھی یو ٹرن لیا ہے کیونکہ لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا تھا کہ جب تک بلا بیلٹ پیپر پر موجود ہے ملک میں استحکام نہیں آسکتا جبکہ پشاور میں ان کی میڈیا ٹاک بالکل پہلے سے مخالف سمت میں ہے ۔تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ جن کا ملزم ہے یا جو عمران خان کو 9 مئی کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہیں وہ اس ضمن میں کیا سوچ رکھتے ہیں اور اہمیت بھی ان کے فیصلے کی ہوگی۔