میں ایک اچھا سامع ہوں،سننا مجھے اچھا لگتا ہے بدلتی رتوں کے ہونٹوں پر جب الوداعی گیت رقصاں ہوتے ہیں، مجھے نظر آتے ہیں اور میں انہیں سن کر سرشار ہو جاتا ہوں جب درختوں کی شاخوں پر لرزاں پتے ،تیز چلتی ہوا کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں مجھے صاف سنائی دیتے ہیں، اسی سمے ہوا جب ان کی بے بسی پر قہقہے لگاتی ہے تو میرا دل میری آنکھوں سے بہتے ہوئے اپنی رائیگانی کی کہانی سنانے لگتاہے تو میں ہمہ تن گوش ہو جاتا ہوں،میرا رواں رواں اس کہانی کے کراہتے ہوئے کرداروں کی دکھی آوازوں کو خود میں سمونے لگتا ہے اورمیں اپنے اندر دورکہیں بہت دور نکل جاتا ہوں جہاں گرد و پیش کے رنگ برنگے پھولوں کے تھانولوں اور کیاریوں سے میری آنکھیں، پلکوں سے سبز، نیلے لال شنگرفی اور ارغوانی رنگوں کے درد چن چن کر ان سے میرے سینے کے وہ چھید بھرنے لگتی ہیں جو دریائے قدیم کے با خبر مگر کٹھورساحلوں پر انتظار کرنے والی سہا گن کے لئے منجدھار کی اور گئے ہوئے کشتی والے کے گائے ہوئے گیتوں کی ہوک سے چھلنی ہوئے تھے، میں اس سہاگن کے لرزتے ہوئے ہونٹوں پر سلامتی سے بھیگے ہوئی دعا کے پھاہے رکھنے لگتا ہوں، حالانکہ میں جانتا ہوں اور سن رہا ہوتا ہوں جو کچھ اس سمے میرے اندر ٹھاٹھیں مارتے کھارے پانی کا سمندر شور مچا مچا کر مجھے کہہ رہا ہوتا ہے کہ تم بہرے ہو، تم سننے کی صلاحیت سے محروم ہو، تم اپنے اندر کی آواز نہیں سن سکتے، تم نے اچھا سامع بننے کا ڈھونگ رچایا ہوا ہے، جو اپنے اندر کی آواز نہیں سن سکتا وہ بھلا دوسروں کی باتوں کے لئے اچھا سامع کیا ہو گا۔۔

میں ان طعنوں کے تھوتھے تیروں سے چھلنی ہو رہا ہوتا ہوں مگرپھر بھی میں چپ رہتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ میری عافیت اسی میں کہ میں چپ رہوں، میں جواب نہیں دیتا شاید اس لئے تا کہ اسے یقین آ سکے کہ میں ایک اچھا سامع ہوں، میں صرف سننا چاہتا ہوں بولنا میری چائے کا پیالہ نہیں ہے، مجھے ایسا لگتا ہے جیسے جواب دینے سے سوال کا وقار مجروح ہو جاتا ہے، ویسے بھی جب اشیا جیسی ہیں، ان سے بہت ہٹ کے نظر آنے لگیں تو جواب مصلحت کی بکل مار ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھ جاتا ہے ،یہ سوال عمر بھر کی ریاضت کو پل میں بے معنی کرنے پر قادر ہوتا ہے، اس کی مٹھی میں ” ہاں تو پھر؟“ سو وہاٹ؟“ کا ہتھیار چھپا ہو تا ہے، ایسا کہہ کر اپنی جیت پر اتراتا ہوا سوال ٹپہ کھائی ہوئی گیند کی طرح کھلنڈرا ہو جاتا ہے، ہر سوال کے ہاتھ میں ایک تیز نوکدار سوئی ہوتی ہے جس سے وہ جواب کے غبارے سے ہوا نکانے کا ہنر جانتا ہے، سوال احساس کے گرد گہری ہوئی ہوئی دھند میں بھی اپنا راستہ ڈھونڈنے پر قادر ہوتا ہے، سو ال جو کسی پرانے شہر کی گلیوں میں سر شام پھیلنے والے دلچسپ اندھیرے کی کوکھ سے جنم لیتا ہے اور کسی کہنہ چہرے کی جھریوں میں جا بیٹھتا ہے، سوال وقت کے ماتھے پر اندیشوں سے بنتی مٹتی لکیروں میں بھی چھپا ہوتا ہے،، چو تھی کھو نٹ کا سفر نہ کرنے کی تلقین کرتی کتھاؤں میں حیران شہزادوں کی آنکھوں میں بھی ”کیوں“ کا سوال رڑکتا رہا ہے، سوال ہی کے ریشوں سے بنی گئی ساری کہانیاں بھی دم سادھے دائیں بائیں تکتی رہتی ہیں، اجنتا اور ایلوار کی گھپاؤن کے دیواروں سے لے کر پکاسو کے کینوس پر تجرید کی چھاپ میں چھپے آرٹ تک سوال ہی کی حکمرانی ہے، سوال خسرو ؔ کی کہہ مکرنیوں اور بجھارتوں کے جھولوں میں بھی جھولتا رہا ہے، سوال کی قلمرو میں خواجہ خضر ؒ اور موسیٰ ؒ سے لے کر مولانارومؓ اور شمس تبریز اورعطار نیشا پوری کی منطق الطیرتک سمائے ہوئے ہیں، پھر سوال ہی نے غالب کے لئے ظرف تنگنائے غزل کو ا پنے بیان کی وسعت کے لئے ناکافی بنا دیا تھا، اور یہی کھلنڈرا سوال ا شہب ِ وقت کے ایالوں میں گدگدی کرتا اور دلکی چال چلتا ہوا جب اس منظقہ میں آ پہنچا جہاں گیتوں اور نظموں کا گلزار ؔ ہر آنے والے سے پوچھ رہا تھا کہ ماچس ہے؟ ہوں۔۔گلزار ہے نا، کہتا ہے کہ ”میں سگریٹ نہیں پیتا، مگر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں، ماچس ہے َ؟؟ بہت کچھ ہے جسے میں پھونک دینا چاتا ہوں۔“ اسی گلزار کا کچھ سامان ایک چھوئی موئی سے لڑکی کے پاس ایک صدی سے پڑا ہے،لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم، ایک ایسی لڑکی کے پاس ایک صدی سے پڑا ہے جو ” آدھی صدی میں کتنی صدیاں“ جیتی ہے تو پوری ایک صدی سے اس کے پاس پڑا ہوا سامان کتنے جنموں کی کتھائیں سنا نے کا گر جانتا ہو گا، بس اس کے بعد کہانی گو چپ ہو جاتا ہے اور پھر سرگوشیاں کرتی کچھ نظمیں مجھے لوری سنانے لگتی ہیں، یہ نظمیں سونیا خان کی نظمیں ہیں اس سونیا خان کی نظمیں جو اک نئے کن کی منتظر ہے کیونکہ وہ پھر سے تخلیق ہونا چاہتی ہے، شاید اس طرح اسے وہ کاریگر مل جائے جس کی انگلیاں آنسو پونچھنے کا فن جانتی ہوں، جسے ادراک ہے کہ وہ کہیں اپنے اندر ہی اگ رہی ہے، یہ کیفیت جان کیٹس کی اس کیفیت سے آگے کی کہانی ہے جس کے بارے میں کیٹس نے فینی کو خط میں لکھا تھا کہ میں اپنے اوپر پھول اگتے محسوس کررہا ہوں، ایسی بہت سی نظمیں قدم قدم پر روک روک لیتی ہیں جوایک ذہنی کیفیت سے دوسری ذہنی کیفیت میں ٹراسپورٹ کر دیتی ہیں، اور اس نظم نے تو چند لفظوں کی رتھ پر سوار کر کے صدیوں کی مسافت کوزیر پا کر دیا۔۔ ” ابھی ابھی۔۔ ماضی کے ریگستانوں سے لوٹی ہوں، اور پاؤں سے لپٹی ریت کو دھویا ہے،۔۔۔ مگر ان نشانوں کا کیا ہو گا؟ جو پاؤں اس ریت پر چھوڑ آئے۔۔ “

ان دنوں میں بھی بہت سوں کی طرح سوچتا ہوں کہ جن دیکھی ہوئی بہت سی خوبصورت جھیلوں اور وادیوں کو میں اپنی تنہائیوں میں اکثر یاد کرتا ہوں جیسے ورڈزورتھ ڈیفوڈلز کو یاد کرتا ہے تو کیا وہ جھیلیں اور وادیاں کبھی مجھے بھی یاد کرتی ہیں، اور کہیں ایسا تو نہیں کہ میرا دیکھی ہوئی جھیلوں پر دوسری بار جانا ان کے بلاوے کی وجہ سے ممکن ہو جاتا ہے، سوبیا بھی ایک خواب گیں مسرتوں سے شرابور ہو کر نظمیں بنتی ہے، اور اتنے کم لفظوں میں بنی گئی صدیوں کا سفر طے کرتی یہ نظمیں دیر تک پڑھی سنی جائیں گی تنہائیوں کو بامعنی بناتی رہیں گے، سونیا خان کہتی ہیں ” رات نے مجھے ابھی سلایا ہی تھا۔۔کہ صبح جاگ گئی۔۔۔اور ۔۔ سپنوں کے خیمے اکھاڑ ڈالے۔۔ اور کہنے لگی۔۔ اٹھو۔۔ اگلے سفر کی جانب سفر کا آغاز کریں۔۔۔۔ میں نے خود کو یہ نظم کئی بار سنائی۔۔میں ایک اچھا سامع ہوں میں سنتا رہا۔۔ مگر پھر میرے ہونٹوں پر ایک سوال کا پھول کھلا جو میں آج بھر بزم میں سونیا خان کو سوال کا وہ پھول پیش کر نا چاہتا ہوں،۔ کہ۔ آدھی صدی میں کتنی صدیاں“ کو اب صدیا ں بیت گئیں ہیں۔۔ اگلا پڑاؤ۔۔۔ کتنی دور ہے۔۔۔