img

نواز شریف کے حالیہ یو ٹرن کی ممکنہ وجوہات

 

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کی سٹیبلشمنٹ سے پنجہ آزمائی کی داستان کئی عشروں پر محیط ہے مگر موصوف کی جانب سے پارٹی کے مشاورتی اجلاس سے حالیہ خطاب میں پراجیکٹ عمران کے پیچھے کارفرما اس وقت کی سٹیبلشمنٹ کے احتساب کی بات کرکے انہوں نے ایک بار پھر 'سٹیٹس کو'کے توڑنے کی کوشش کی۔  پھر شہباز شریف کی ایک خفیہ ملاقات کی خبریں سامنے آنے کے بعد وہ اچانک لندن روانہ ہوگئے ۔ لندن میں شریف فیملی کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس کے اختتام پر نواز شریف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے  ایک بار پھر اپنے موقف کو دہرایا جس کے بعد پاکستان میں قیاس آرائیوں کا ایک طوفان برپا ہوگیا اورجتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق ہر کسی نے ان قیاس آرائیوں میں حصہ بقدر جثہ ڈالا۔

اس تمام مشق کے بعد نواز شریف کے قریبی رفیق سمجھے جانے جاوید لطیف نے ایک پریس کانفرنس کی کہ اگر مذکورہ جرنیلوں کا احتساب ادارہ نہیں کرنا چاہتا تو 9 مئی کے واقعے کے پس پشت کارفرما افراد کو ہی کٹہرے میں لایا جائے اس میں بھی پوشیدہ پیغام جنرل  ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف کارروائی کا تھا کیونکہ یہ خبریں میڈیا میں آچکی تھیں کہ 9 مئی کے پیچھے بھی انہی صاحب کا عالی ذہن کارفرما تھا۔

اب گذشتہ روز اسحاق ڈار صاحب نے بھی سابق جرنیلوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا مشورہ خم ٹھوک کر دیا ہے اور کھسیانی بلی کھمبہ نوچے کے مصداق وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ ہم ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے خواہاں ہیں اور ہمیں انتقام لینے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

ن لیگ کی سیاست پر نظر رکھنے والے اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ اس پارٹی کا ظہور کیسے ہوا اور کیسے مختلف مواقع پر بیرونی قوتوں کی مدد اور تعاون سے نواز شریف ڈیلز کرکے ایک طرف ہوئے ،یہاں تک کہ باجوہ کو توسیع دینے پر بھی ڈیل ہوئی اور عمران خان کو اقتدار سے الگ کیا گیا جبکہ  سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے قاسم سوری کی رولنگ کا نوٹس لیا جانا بھی سٹیبلشمنٹ کے ڈنڈے کے بنا ممکن نہیں تھا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک کی تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنےقیام اور حکومتوں کی تشکیل کے لئے سٹیبلشمنٹ کی رہین منت رہی ہیں اور اگر دیکھا جائے تو عوام اور ان کے نمائندوں میں کوئی قدر مشترک نہیں۔  یہی وجہ ہے کہ عوامی مسائل حل ہونے کے بجائے گھمبیر ہوتے جارہے ہیں جبکہ ہر دور میں حکمران صرف اپنی مشکلات کے خاتمے کے لئے ہی کوشاں نظر آتے ہیں۔

اب محسوس یوں ہوتا ہے کہ شہباز شریف کی آخری لندن یاترا کامیاب رہی ہے اگرچہ نواز شریف نے اپنے بھائی کے ساتھ پریس کانفرنس میں مشاورتی اجلاس سے خطاب کے موقف کو دہرایا تھا جو کہ سکرپٹڈ تھا کیونکہ اس قدر جلد اپنے موقف سے یو ٹرن نواز شریف کے لئے ایک مشکل امر تھا اور مٹی پاؤ پالیسی اب اختیار کی جارہی ہے جس کے مخالف موقف کا قبل ازیں اظہار کیا گیا تھا۔

 ن لیگ کی جانب سے یو ٹرن لینے کی ایک اور وجہ فیض آباد دھرنا کیس بھی ہے جس میں بلاواسطہ جنرل (ر)فیض حمید اور جنرل آصف غفور کا ذکر ہے جبکہ بلواسطہ طور پر جنرل(ر ) قمر جاوید باجوہ بھی اس کا نشانہ بن سکتے ہیں اس لئے اس آس پر کہ عدالت عظمیٰ ان کے خلاف کارروائی کرے اور کریڈٹ ہم لے لیں یہ یو ٹرن لیا گیا ہے۔

یہ بات ن لیگ کے لئے پلس پوائنٹ ہے کہ موجودہ چیف جسٹس کی صورت میں آئین کا علمبردار منصب عدل پر تشریف فرما ہے اس لئے مناسب یہ ہوگا کہ وہ پراجیکٹ عمران کے تمام کرداروں کے خلاف چاہے وہ ادارے میں تھے یا عدلیہ میں، ایک مضبوط درخواست سپریم کورٹ میں دائر کرے تاکہ ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے سابق جرنیلوں اور ججوں کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں، تاہم اس احقر کو یقین ہے کہ ن لیگ ایسی کوئی بھی درخواست دائر نہیں کرے گی کیونکہ شہباز شریف اپنی حالیہ حکومت میں سٹیبلشمنٹ کی جو خدمت کرگئے ہیں اس کے بعد ن لیگ سے اس قسم کی کوئی بھی امید لگانا خلاف عقل ہی ہوگا۔

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA